فسانہ بنے گا کل…
₹300.00
مشتاق احمد یوسفی تو سوانح حیات کو مزاحیہ ادب کے زمرے میںشمار کرتے تھے۔ انسان ایک عجیب اور دلچسپ مخلوق ہے، وہ پورے کا پورا اپنے اندر کو باہر لاہی نہیں سکتا۔ کوشش کرے تب بھی شاید یہ ممکن نہیں۔دراصل اس کے اندرون اتنی پیچیدگیاں ہوتی ہیں کہ وہ اپنی الجھی ہوئی ڈور کو سلجھا بھی نہیںسکتا، وہ از خود اس ڈور میں ایسا الجھتا جاتا ہے کہ پھر اس کی ساری راہیں مسدود ہوتی جاتی ہیں۔
مان بھی لیں کہ کچھ لوگ اپنے سچ کو باہر لے ہی آتے ہیں ،کچھ دیر کے لیے اس پر تالیاں بھی بجتی ہیں، کچھ واہ واہی بھی ہوجاتی ہے، مگر اس کے بعد —اس قسم کی تحریریں عام طورپر’پورن لٹریچر‘ میںشمار ہوتی ہیں۔ مطالعہ کرنے والے ان سے لذت حاصل کرتے ہیں۔ لکھنے والے کے تئیں ان کے اندر احترام اور عزت کا جذبہ پیدا ہی نہیں ہوتا۔ان تمام باتوں اور دلیلوںکے بعد پھر سوانح عمری لکھنے کا میرے پاس کیا جواز باقی رہ جاتا ہے—؟
بہت سوچنے اور بہت غور کرنے کے بعد اچانک ایک ایسے لمحے نے مجھے آلیا جس نے مجھے قائل کردیا کہ میں خدائے بزرگ وبرتر کے بخشے ہوئے اور اس کے عطا کردہ قوت اظہارپہ اور اس کی ان کرم فرمائیوں کا اپنے قلم سے اظہار تشکر تو کروں جس نے کوئی خاص علم ، کوئی غیر معمولی صلاحیت کے نہ رہتے ہوئے بھی اپنی رحمتوں کی مجھ پر بے پناہ بارش فرمائی،پھر زندگی کے بے شمار موڑ پر ان بے حساب محبتوں اور ہمدردیوں کا، جو جانے انجانے خدا کے بندوں نے مجھے بے کم و کاست عطا کیا۔ بند مٹھی میں وقت کی مہربانیوںکااور ان پاک باز ہاتھوںکا جنہوں نے میری قسمت کی سرشت میں کالے دھبوں کو پڑنے نہیںدیا یا انھیں مٹانے کی پوری کوشش کی،اپنے قلم سے ان باتوں کا کم سے کم میں اعتراف تو کروں، تحریری طورپر محبتوں اور شفقتوںکے صلے میں سنہری لکیریں کھینچنے کی کوشش تو کروں ،اپنے کمزور کاندھوںپر دبے ہوئے بے شمار قرضوں کے بار کو کچھ تو ہلکا کر جائوں…
اس کتاب سے….
مصنف
: عبدالصمدپبلیشر
: کتاب دار پبلی کیشنز

